مردِ کہن ، مردِ حق ، مردانِ حر بے شمار |
تجھ پر ہوئے جانثار ، پیر و زن و شیر خوار |
یورپ کی سلطاں گری یا ایشیا کا غرور |
تیرے جوانوں کو ہے ہیچ است گرد و غبار |
تیری زمیں کربلا ، تیرے جواں سب حسینؔ |
تجھ سے ہوا بازیاب عہدِ کہن کا وقار |
تیری جبیں کا لہو ، رنگ شفق سے بھی سرخ |
تجھ سے ہے گلزار شوخ ، تجھ سے چمن لالہ زار |
تیری ادا دلفریب ، تیری روش دلربا |
تجھ سے ملل کی بقا ، تجھ سے امم پائدار |
تجھ سے ہے روشن زماں ، اے قدسیوں کے جہاں |
اقوامِ عالم کا ہے تیری بنا پر مدار |
معلومات