ظلمتِ دل کو محبت سے مٹایا جائے
عشقِ احمد کا دیا دل میں جلایا جائے
دل کو پیدا ہی خدا اس کے لئے کر تا ہے
"دل کو بس عشقِ محمد سے سجایا جائے"
چوں کہ رہتے ہیں ازل ہی سے محمد اس میں
دل کے اس گھر کو مدینہ ہی بتایا جائے
صاف و شفاف ہی کیا ہوگا سدا پاکیزہ
دل کو احمد کی محبت میں رُلایا جائے
صبغۃُ اللہ فقد رنگِ محمد ہی ہے
دل کو بس رنگِ محمد ہی چڑھایا جائے
خواب میں چاہو بشارت دیں نبی تو دل کو
لوریاں نعت کی دے دے کے سلایا جائے
جب ثنا خوان ذکؔی پیارے محمد کا ہے
جامِ کوثر اسے بھر بھر کے پِلایا جائے

0
4