جو فضلِ خدا سے حسیں آستاں ہے
فروزاں اسی سے دہر کا جہاں ہے
بنا ہے جو یسرب سے نوری مدینہ
یہ پیارے نبی کا نیا گلستاں ہے
کھچے مرد و زن جو مدینے ہیں جاتے
یہاں سے ہے ملتا جو باغِ جناں ہے
منور مدینے کے منطر جدا ہیں
خدا کی خدائی میں سب پر عیاں ہے
عقیدہ ہے میرا عقیدت ہے اس سے
تقدس سے آقا کے گردوں رواں ہے
نبی جانِ جاناں ہیں مقصودِ عالم
دیا رب نے اُن کو زمان و مکاں ہے
اے محمود ہادی کریمِِ جہاں ہیں
اگر مہرباں وہ خدا مہرباں ہے

1
6
مجموعی خلاصہ:
یہ نعت شریف اس عقیدے کو بیان کرتی ہے کہ:
حضور ﷺ کی ذات سراسر رحمت اور مرکزِ ہدایت ہے
مدینہ اُن کی نسبت سے نور، سکون اور جنت کا دروازہ ہے
ایمان کی روح محبت، تعظیم اور نسبتِ مصطفی ﷺ میں ہے
نجات کا راستہ اطاعتِ رسول ﷺ اور شفاعت سے وابستہ ہے

0