| جو فضلِ خدا سے حسیں آستاں ہے |
| فروزاں اسی سے دہر کا جہاں ہے |
| بنا ہے جو یسرب سے نوری مدینہ |
| یہ پیارے نبی کا نیا گلستاں ہے |
| کھچے مرد و زن جو مدینے ہیں جاتے |
| یہاں سے ہے ملتا جو باغِ جناں ہے |
| منور مدینے کے منطر جدا ہیں |
| خدا کی خدائی میں سب پر عیاں ہے |
| عقیدہ ہے میرا عقیدت ہے اس سے |
| تقدس سے آقا کے گردوں رواں ہے |
| نبی جانِ جاناں ہیں مقصودِ عالم |
| دیا رب نے اُن کو زمان و مکاں ہے |
| اے محمود ہادی کریمِِ جہاں ہیں |
| اگر مہرباں وہ خدا مہرباں ہے |
معلومات