رقیہ…
کاش
تم ایک بار میرے اشک دیکھتیں،
وہ اشک
جو کسی حادثے کے نہیں تھے،
جو کسی کمزوری کے نہیں تھے—
وہ اشک
تمہاری یاد کی وسعت میں بہتے رہے،
جیسے سمندر کو اپنی گہرائی کا اندازہ نہ ہو۔
تم دیکھتیں
کہ آنکھ صرف نم نہیں تھی،
وہ ایک دریچہ تھی
جس سے تمہارا نام
مسلسل ٹپک رہا تھا۔
کاش
تم ایک بار
اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھتیں—
اور لرز جاتیں۔
یہ دل
کوئی معمولی دل نہیں رہا،
یہ ایک منبر بن چکا ہے
جہاں ہر دھڑکن
بس ایک ہی خطبہ دیتی ہے—
رقیہ…
رقیہ…
رقیہ…
میں نے کبھی اتنی شدت سے
اپنا نام بھی نہیں لیا
جتنا تمہارا لیتا ہوں۔
کاش
تم ایک لمحے کو
میرے بدن میں دوڑتی ہوئی
اس محبت کی بجلی کو چھوتیں—
اور دیکھتیں
کہ یہ کوئی استعارہ نہیں،
یہ واقعی جلتی ہے،
کاٹتی ہے،
راتوں کو نیند سے محروم کرتی ہے،
اور صبح کو آئینے میں
ایک اجنبی چہرہ دکھاتی ہے۔
رقیہ…
تمہیں کیا خبر
کہ میں نے کتنی بار
اپنے آپ سے کہا
کہ یہ سب وہم ہے،
کہ یہ سب گزر جائے گا—
مگر کچھ محبتیں
وقت کے ساتھ نہیں گزرتیں،
وہ وقت کو گزار دیتی ہیں۔
میں نے اپنی ہنسی کو
تمہاری غیر موجودگی میں دفن کیا ہے،
میں نے اپنے سوالوں کو
تمہارے سکوت کے حوالے کیا ہے،
اور اپنے وجود کو
تمہارے نام کے گرد
قید کر دیا ہے۔
یہ قید سزا نہیں،
یہ اعتراف ہے۔
رقیہ…
میں تمہیں حاصل کرنے کی ضد میں نہیں،
میں تمہیں کھونے کے بعد بھی
تمہیں ماننے کی کیفیت میں ہوں۔
کاش
تم ایک بار
میرے اشکوں کی زبان سمجھتیں،
میرے دل کی لرزش سنتیں،
میرے جسم میں دوڑتی ہوئی
اس محبت کی برق کو محسوس کرتیں—
تو شاید
تمہیں معلوم ہوتا
کہ میں مبالغہ نہیں کر رہا،
میں بس ٹوٹ کر سچ بول رہا ہوں۔
اور سچ یہ ہے—
میں نے تمہیں
کسی امکان کی طرح نہیں،
کسی آخری یقین کی طرح چاہا ہے۔
اگر تم کبھی پوچھو
کہ عشق کی حد کیا ہوتی ہے—
تو آ کر
میری آنکھوں میں دیکھ لینا۔
وہاں تمہیں
اپنی ہی تصویر
بہتی ہوئی ملے گی۔

0
5