عشقِ مولا کا رستہ ملا آپؐ سے
زندگی کا قرینہ ملا آپؐ سے
سارا عالم بھٹکتا اندھیروں میں تھا
شمعِ حق کا اجالا ملا آپؐ سے
آپؐ رحمت کا سایہ یتیموں پہ تھے
بحرِ الفت ، خزینہ ملا آپؐ سے
بغض تھا جن دلوں میں جگہ پا گیا
جیتنے کا سلیقہ ملا آپؐ سے
آپؐ نے ظلم کا بھی نہ بدلہ لیا
عفو کا ایسا شیوہ ملا آپؐ سے
آپؐ نے حق غلاموں کو وہ دے دیئے
ان کے دل کو سہارا ملا آپؐ سے
ٹوٹا دل آپؐ نے ایسے جوڑا کہ پھر
حوصلہ خوب پایا ، ملا آپؐ سے
کوئی دولت سے اونچا نہ کمتر کوئی
جس نے انصاف چاہا ، ملا آپؐ سے
تھا لبوں پر تبسّم، نگاہِ کرم
نرم شفقت کا لہجہ ملا آپؐ سے
اپنا سب کچھ لُٹایا خدا کے لئے
تب رضا کا اشارہ ملا آپؐ سے
دل میں آیا ، سکوں لب پہ صلِّ علٰی
فیض کا بہتا دریا ملا آپؐ سے
خوں کے پیاسے اخوّت میں یوں بندھ گئے
امن کا تھا جو تحفہ ملا آپؐ سے
آپؐ نے ہی یہ طارِقؔ ، بیاں کر دیا
آپؐ کو ہے جو پیارا ملا آپؐ سے

0
3