فیصلہ دل کے مطابق ہو، ضروری تو نہیں
ہر کوئی اپنے موافق ہو، ضروری تو نہیں
مانا اخلاص کے پیکر ہیں یہاں سب، لیکن
کوئی ان میں نہ منافق ہو، ضروری تو نہیں
صاف لفظوں میں بیاں کیجیے اپنا قصہ
ہر کوئی واقفِ منطق ہو، ضروری تو نہیں
دست پہ جگنو، نگاہوں میں ستارے رکھیے
ہر گھڑی مہر ہی شارق ہو ضروری تو نہیں
سارے انسان برابر ہیں زمانے میں مگر
ہر کوئی لائق و فائق ہو، ضروری تو نہیں
دل کے احوال سبھی کو نہ سنایا کیجیے
ہر بشر آپ کا مشفق ہو، ضروری تو نہیں
اے کنولؔ، سب سے وفا کی نہ توقع رکھنا
سب کا دل صاف و صادق ہو، ضروری تو نہیں

6