تجھ سے ملنے کی تمنّا میں تھکا بیٹھ گیا
تھا جو دیوار کا سایہ، وہیں جا بیٹھ گیا
کس قدر تلخ تھی ہجرت کی گھڑی کیا کہیے
پاؤں اٹھتے نہ تھے، دل بھی تو مرا بیٹھ گیا
صرف اک شخص کے انکار کی دیری تھی اور
ساری بستی میں مری ساکھ کا بھا بیٹھ گیا
شور برپا تھا بہت میری انا کا لیکن
سامنے اس کے جو پہنچا تو گلا بیٹھ گیا
تیرے کوچے میں عجب رنگِ عدالت دیکھا
جس نے فریاد کی، وہ شخص ہی تھا بیٹھ گیا
جس کو طوفان کی لہروں سے بہت پیار رہا
ساحلِ وقت پہ کیوں آج وہ آ بیٹھ گیا؟

0
5