| قصہِ مختصر گئے ہم تو |
| تیرے در سے اگر گئے ہم تو |
| ہاتھ خالی تھے شہر میں آتے |
| واپسی آنکھ بھر گئے ہم تو |
| میکدے رات بھر بلاتے تھے |
| لیکن اپنے ہی گھر گئے ہم تو |
| کیا محبت کی بات کرتے ہم |
| ان کی باتوں سے ڈر گئے ہم تو |
| شام ڈھلتے تمام چلتے بنے |
| دیکھ وقتِ سحر گئے ہم تو |
| ہر زباں پر ہے جاناں نام ترا |
| تجھ کو مشہور کر گئے ہم تو |
| کیا بہانہ کِیا ہے زاہد نے |
| تیرے پیچھے اُدھر گئے ہم تو |
| قہر برپا تھا اک سرِ محشر |
| خامشی سے گزر گئے ہم تو |
| سانس جیسے ہو ڈور کی تسبیح |
| سانس ٹوٹی بکھر گئے ہم تو |
| شہر سے چوریاں خریدیں گے |
| جب کبھی بھی سفر گئے ہم تو |
| کون پوچھے گا میرے بارے میں |
| راستے میں ہی مر گئے ہم تو |
| اس نے مانگی تھی جان اک احمدؔ |
| جان چوکھٹ پہ دھر گئے ہم تو |
معلومات