مُجھ پر بھی کھول دے تُو عالم مِثال کا
یہ بھی تو ایک رُخ ہے تیرے جَمال کا
تیرا ہی نُور ظاہر، ہر شَے سے ہے مَگر
مَظہر ہے نُورِ احمدؐ تیرے جَلال کا
بابِ اِرم پہ گُونجا نعرہ اَحَد اَحَد
اوّل وہاں قَدم ہے تیرے بِلالؓ کا
حُکمِ فَاَیْنَمَا ہے آیا اِسی لیے
چہرہ ہے ایک جیسا تیرے رِجال کا
ہر شکلِ اِنْس و جاں میں تیرا ہی عکس ہے
میں بھی ہوں اِک نَمونہ تیرے کَمال کا
کب سے پھنسا ہُوا ہوں قیدِ حجاب میں
کوئی تو ہو وَسیلہ تیرے وِصال کا
اوقات کیا ہے میری، میں کیا حساب دوں
لَہجہ نہ سَہہ سکوں گا تیرے سوال کا
منزل نہیں ہے کوئی راہِ نیاز میں
حیرت میں ہے ٹِھکانہ تیرے نِہال کا
تیری رَضا کا طالب مانگے تو بس یہی
تانْتا نہ ٹُوٹے کوئی تیرے خیال کا

0
17