لوگ گلشن کی حفاظت ہمیں کرنے دیتے
ہم نہ اک بار بھی کلیوں کو بکھرنے دیتے
تم اگر سچ میں کسی دین کے پَیرَو ہوتے
اپنے مذہب کو یوں بدنام نہ کرنے دیتے
حکمراں میرے وطن سے کبھی مخلص ہوتے
اپنے لوگوں کو نہ پردیس میں مرنے دیتے
پھر نئے ٹیکس نچوڑیں گے لہو مفلس کا
کاش عزت سے انھیں پیٹ تو بھرنے دیتے
جس طرح آج ہے کہرام چمن میں برپا
کیوں نہیں مالی کی دہلیز پہ دھرنے دیتے

0
1