| مدینے جانے والوں کے مقدر جگمگاتے ہیں |
| جو آتے ہیں سخی در پر انہیں داتا بلاتے ہیں |
| درودوں کے حسیں گجرے سجی مالا سلاموں سے |
| جو زائر ہیں مدینے کے مدینے ساتھ لاتے ہیں |
| لئے موتی عقیدت کے مدینے میں جو آتا ہے |
| انہیں سرور نبی میرے گراں رفعت دلاتے ہیں |
| بلائیں گے مدینے جاں یہ حسرت ہے حزیں دل میں |
| کوئی آ کر کبھی کہہ دے تمہیں دلبر بلاتے ہیں |
| زیارت کر لوں جالی کی میں دیکھوں سبز گنبد بھی |
| حسیں منظر خیالوں میں ہمیشہ جھلملاتے ہیں |
| وہ رحمت کبریا کی ہیں وہی نورِ ہدیٰ آقا |
| منور شہر ہے اُن کا جہاں کو بھی سجاتے ہیں |
| زہے محمود نامہ جو درودوں سے مزین ہو |
| نبی کی یاد سے سینے منور جگمگاتے ہیں |
معلومات