مدینے جانے والوں کے مقدر جگمگاتے ہیں
جو آتے ہیں سخی در پر انہیں داتا بلاتے ہیں
درودوں کے حسیں گجرے سجی مالا سلاموں سے
جو زائر ہیں مدینے کے مدینے ساتھ لاتے ہیں
لئے موتی عقیدت کے مدینے میں جو آتا ہے
انہیں سرور نبی میرے گراں رفعت دلاتے ہیں
بلائیں گے مدینے جاں یہ حسرت ہے حزیں دل میں
کوئی آ کر کبھی کہہ دے تمہیں دلبر بلاتے ہیں
زیارت کر لوں جالی کی میں دیکھوں سبز گنبد بھی
حسیں منظر خیالوں میں ہمیشہ جھلملاتے ہیں
وہ رحمت کبریا کی ہیں وہی نورِ ہدیٰ آقا
منور شہر ہے اُن کا جہاں کو بھی سجاتے ہیں
زہے محمود نامہ جو درودوں سے مزین ہو
نبی کی یاد سے سینے منور جگمگاتے ہیں

1
4
یہ نعتیہ کلام مدینۂ منورہ کی روحانی عظمت، زیارتِ روضۂ رسول ﷺ کی تڑپ اور محبتِ رسول ﷺ کے پاکیزہ جذبات کی نہایت دلنشیں ترجمانی کرتا ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ جن خوش نصیبوں کو مدینہ جانے کی سعادت نصیب ہوتی ہے، ان کی قسمتیں روشن ہو جاتی ہیں، کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ کے دربار میں آنے والے خالی ہاتھ نہیں لوٹتے۔

کلام میں درود و سلام کو محبت کے خوبصورت گجروں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ شاعر اپنے دل کی آرزو کا اظہار کرتے ہوئے دعا کرتا ہے کہ اسے بھی مدینہ کی حاضری، روضۂ رسول ﷺ کی جالی اور سبز گنبد کی زیارت نصیب ہو۔ آخری اشعار میں حضور اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت، برکت اور نور کا مظہر قرار دیتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی یاد اور درودِ پاک سے دل نورِ ایمان سے منور ہو جاتے ہیں۔ یہ نعت عشقِ رسول ﷺ، شوقِ مدینہ اور روحانی وابستگی کا خوبصورت اظہار ہے۔

0