ہاتھ میں جب نہیں ہے اپنی جان
پھر اکڑتا ہے کس لیے انسان
سب خدائی جہاں سے کھاتی ہے
میرے مالک کا ہے وہ دستر خوا ن
عارضی ہیں تمام ارض و سما
صرف باقی رہے گی رب کی شان
دوست احباب چل دیے پہلے
ہم بھی ہیں کچھ دنوں کے ہی مہمان
اے خدا یہ وطن رہے آباد
تا قیامت رہے یہ پاکستان

0
1