بڑی نامِ احمد میں تاثیر ہے
سجی اس سے مومن کی تقدیر ہے
سدا اُن کی توقیر کر میرے دل
یہی تیرے خوابوں کی تعبیر ہے
سجے عشقِ جاناں سے یہ زندگی
یہی زندگانی کی تفسیر ہے
تجلی ملے حسنِ جاناں کی وہ
جو سینہء گلشن کی تنویر ہے
حسیں جلوہ اُن کا نظر دیکھ لے
ہو قسمت میں جیسے یہ تحریر ہے
الٰہی کریں شاد دل کا چمن
کہ ہجرِ نبی آج دل گیر ہے
عنایت ہو محمود پر یا نبی
رہا نفسِ امارہ نخچیر ہے

0