وعدہ ہے یاد آج بھی مجھ کو کیا ہوا
احساس میں ہے زندہ وہ اب تک بسا ہوا
منظر حسین بھولے نہیں بھولتا مگر
"آنکھوں میں ایک دشت ہے کب سے رکا ہوا"
کوئی بھی اعتماد کے قابل نہیں رہا
گھر کا ہی بھیدی دشمنوں سے تھا ملا ہوا
دنیا کی زندگی اسی مانند ہی سمجھ
سستانے بس رکا ہو مسافر تھکا ہوا
مطلب پرستی پھیل چکی ہے وبا کی طرح
ہمدردی کا ہے بول بھی وزنی کہا ہوا
گمراہی سے بچیں رہیں تو سرخروئی ہو
ہوگا ذلیل بھی بری رہ پر چلا ہوا
اعزاز ہو اسی کا ہی ناصؔر فقط یہاں
ملت کی فکروں میں ہو جو پورا فنا ہوا

0
42