خوابِ غفلت سے جگا دے ساقی
دل کو جینے کی ادا دے ساقی
دل پہ برسوں سے اندھیرا چھایا
کوئی روزن تو بنا دے ساقی
سچ جو ہونٹوں پہ ٹھہر جاتا ہے
اس کو آواز بنا دے ساقی
عمر بھر خوف کو پوجا ہم نے
خوف کا بت ہی گرا دے ساقی
جس کو منزل سمجھ کے بیٹھے ہیں
اس سے آگے کا پتا دے ساقی
عمر بھر ضبط کی عادت پالی
آج جی بھر کے رلا دے ساقی
جن کی زنجیر کو زیور سمجھا
ان سے آزاد کرا دے ساقی
خود جسے کہتے ہیں شاہدؔ شاہدؔ
اس کو بھی سچ سے ملا دے ساقی

0
1