مری قیمت کہاں اب تک تری دنیا نے جانی ہے
مرے ہر زخم میں پنہاں وفاؤں کی نشانی ہے
جو حرفِ درد لکھے تھے جو آنسو لفظ بن بیٹھے
وہی فردا کے انسانوں کے دل کی ترجمانی ہے
میں خاموشی میں پلتا تھا مگر خاموش کب تھا میں
مرے لفظوں میں پنہاں یہ مرے دل کی کہانی ہے
نہ مانگا میں نے دنیا سے کبھی اپنے سفر کا حق
مری منزل مرے دل کی صداقت کی نشانی ہے
جو ٹھوکر راہ میں آئی وہی ٹھہری سبق آخر
مری ہر ایک ناکامی میں اک فتحِ نہانی ہے
میں اپنے درد کو لے کر چراغِ راہ بن بیٹھا
مری تنہائیوں میں بھی خدا کی مہربانی ہے
یہ مت سمجھو کہ انساں مر کے مٹ جاتا ہے دنیا سے
خیالِ خیر رہ جاتا یہی اس کی نشانی ہے
تمہیں جو قبرِ شاعر سے کبھی کوئی صدا آئے
تو کہنا ایک مردِ حق تھا جس کی یہ کہانی ہے
کہ خود کو ڈھونڈتے ساگر زمانے سے گزر نکلا
مگر اس کی صدا میں اب بھی رنگِ جاودانی ہے

0
3