گھروں میں سب کے یاں اب تو سنوارے جائیں گے پتھر
نیا مجنوں بنا ہوں میں سو مارے جائیں گے پتھر
خدا کے نام پر کتنے غریبوں کی امانت سے
تراشے جائیں گے پتھر نکھارے جائیں گے پتھر
بہا کے ہم کو لے جائے اگر دریا روانی میں
روانی دیکھ کر میری کنارے جائیں گے پتھر
یہاں دنیا کی رسمیں دیکھ کر لگتا ہیں مجھ کو اب
کبھی بھی آسمانوں سے اتارے جائیں گے پتھر
اگر ہو حوصلہ تم میں تو ہے ممکن کہ ایسا ہو
زمینوں سے کبھی بن کے ستارے جائیں گے پتھر
نہیں ممکن کہ پھل ایسے نشانے کے اتر آئیں
اٹھائے جائیں گے پتھر کہ مارے جائیں گے پتھر

0
3
51
گھروں میں سب کے یاں اب تو سنوارے جائیں گے پتھر
نیا مجنوں بنا ہوں میں سو مارے جائیں گے پتھر
- مجنوں کو مارنے کے لیے پتھر سنوارے نہیں جاتے - مصرعو ں میں کوی ربط نہیں اسے دولخت شعر کہتے ہیں

بہا کے ہم کو لے جائے اگر دریا روانی میں
روانی دیکھ کر میری کنارے جائیں گے پتھر
-- یہاں محاورہ کا غلط استعمال ہے - پتھر جانا محاورا نہیں" پتھرا" جانا ہے- ردیف کے لیے محاررہ نہیں بدل سکتے

یہاں دنیا کی رسمیں دیکھ کر لگتا ہیں مجھ کو اب
-- لگتا کی ضمیر مجھ ہے رسمیں نہیں - یہاں ہیں کہ بجاۓ ہے آئیگا

کبھی بھی آسمانوں سے اتارے جائیں گے پتھر
-- اتارے جانے کی اصطلاح نازل ہونے کے لیے ہوتی ہے - عذاب کے پتھر اتارے نہیں جاتے

اگر ہو حوصلہ تم میں تو ہے ممکن کہ ایسا ہو
- ہے ممکن کرنا ناپختگی کی علامت ہوتا ہے اسے "ممکن ہے" ہی رکھنا چاہئے- فعل پورا ایک ساتھ ہونا چاہیے

نہیں ممکن کہ پھل ایسے نشانے کے اتر آئیں
اٹھائے جائیں گے پتھر کہ مارے جائیں گے پتھر

کیسے پھل ؟ یہ شعر سخت تعقیدِِ لفظی کا شکار ہے

میں نے یہ سب اس لیے لکھا کہ محسوس ہوا آپ اچھی شاعری کر سکتے ہیں مگر ابھی رستہ سمجھ نہیں آیا ہے
برا لگے تو اس کو اگنور کر کے ایسی ہئ شاعری کرتے رہیں جیسی اس ویب سائٹ پہ زیادہ تر لوگ دھڑلے سے کر رہے ہیں
شکریہ

0
بہت مشکور ہوں میں ضرور ان سب چیزوں کو دھیان میں رکھ کے اگلی بار لکھنے کی کوشش کروں گا۔ بہت بہت شکریہ عزیزم

0
بہت شکریہ آپ نے میری بات کا برا نہیں مانا۔ میرا مشورہ ہے کہ اسی غزل کو صحیح کیجیے

0