| یہ رواں دو جہاں میں خبر آج ہے |
| جس سے حیراں وہ مہر و قمر آج ہے |
| سارے افلاک پر بس یہی دھوم ہے |
| دیکھے منظر جو اہلِ بصر آج ہے |
| چومے اُن کے قدم عرش نے چاہ سے |
| اوجِ افلاک خیر البشر آج ہے |
| بابِ رحمت کھلے پورے الطاف کے |
| مانگیں سائل جو مدِ نظر آج ہے |
| بحرِ افضال میں ہے طلاطم گراں |
| ہر دعا میں عیاں اک اثر آج ہے |
| دیکھیں تارے جو انوارِ سرکار کو |
| پوچھیں کیسا یہ جاری سفر آج ہے |
| دیکھ محمود کھویا کہاں آج تو |
| کیسے ششدر کھڑی عقل و فکر آج ہے |
معلومات