| وہ مسکرا کے دیکھ گئی، بات ہو گئی |
| خاموشیوں میں آج ملاقات ہو گئی |
| میں نے کہا کہ دیر ہوئی، اب چلوں ذرا |
| اس نے کہا کہ بیٹھو، تو پھر رات ہو گئی |
| اس نے مری کتاب میں اک پھول رکھ دیا |
| وہ یاد میرے واسطے سوغات ہو گئی |
| اک عمر جس کے سامنے خاموش ہی رہے |
| اس نے جو حال پوچھا، تو برسات ہو گئی |
| شاہدؔ وہ پوچھ بیٹھی کہ پھر کب ملو گے تم؟ |
| یوں خوفِ ہجر سے مری نجات ہو گئی |
معلومات