| کچھ خوف ہے نہ رنج و الم، خیریت سے ہوں |
| سرکار کا ہے مجھ پہ کرم، خیریت سے ہوں |
| جب سے ملی ہے نعمتِ عشقِ نبی مجھے |
| دل اس کا بن گیا ہے حرم، خیریت سے ہوں |
| داخل ہوا ہے عشقِ نبی دل میں جس گھڑی |
| خارج ہوئے ہیں سارے صنم، خیریت سے ہوں |
| سینے پہ قدم رکّھے نبی آ کے خواب میں |
| دل پر چَھپا ہے نقشِ قدم، خیریت سے ہوں |
| ایمان ہے، سکون ہے عشقِ نبی کا دُکھ |
| راحت ہے ان کے عشق کا غم، خیریت سے ہوں |
| عشقِ نبی میں نفس و انا، سارے سرکشاں |
| سب ہوگئے ہیں پورے بھسم، خیریت سے ہوں |
| عشقِ نبی سے پائی ہے دل نے سلامتی |
| دل کہہ رہا ہے کھا کے قسم، خیریت سے ہوں |
| جب سے ہوا ہے عشقِ نبی مجھ پہ مہرباں |
| لکھتا ہے جا رہا ہے قلم، خیریت سے ہوں |
| خیراتِ فضلِ عشقِ نبی کیا کہوں ذکیؔ |
| بس مختصر یہ کر دے رقم، خیریت سے ہوں |
معلومات