خبر بہت ہے مگر آگہی کہیں نہیں ہے
سوال زندہ ان میں زندگی کہیں نہیں ہے
بہت اصول تھے جن پر زمانہ قائم تھا
وہ اختلاف کی شائستگی کہیں نہیں ہے
ہزار علم کے دریا بہے ہیں دنیا میں
مگر سوال کی وہ تشنگی کہیں نہیں ہے
ہر ایک شخص کو اظہار کا ہنر آیا
جو سننے کی کبھی برداشت تھی کہیں نہیں ہے
ہر ایک نسل نے تاریخ اپنی لکھ ڈالی
مگر جو علم کی تھی روشنی کہیں نہیں ہے
وقار لفظ میں محفوظ رہ گیا شاید
نگاہ و لہجے میں خودداری اب کہیں نہیں ہے
ہر ایک ظلم پہ تقریر ہو رہی ہے بہت
مگر ضمیر کی بے تابی اب کہیں نہیں ہے

0
4