پوچھ مجھ سے کہ ماجرا کیا ہے
دل کی دنیا میں اب رہا کیا ہے
زخم اتنے ہیں لب پہ خاموشی
درد سے بڑھ کے اور صدا کیا ہے
کھو کے تم کو یہ سوچتا ہوں اب
اپنے حصے میں اب بچا کیا ہے
ہم نے مانا کہ عشق سچا تھا
پھر محبت میں یہ ملا کیا ہے
اب بھروسہ کہاں محبت پر
مجھ کو معلوم ہے وفا کیا ہے
خامشی خود جواب دیتی ہے
لفظوں میں پھر بھلا رکھا کیا ہے
بھول جاؤں گا میں تمہیں ساگر
یاد رکھنے سے بھی ملا کیا ہے
© ساگر حیدر عباسی

0
4