| مرے حوصلے جب کمر باندھتے ہیں |
| سمندر پھر اپنے بھنور باندھتے ہیں |
| بندھا ان سے ہے یوں امیدوں کا دھاگا |
| گھنی شام کو بھی سحر باندھتے ہیں |
| مرے دل کو جس کی نظر لگ گئی ہے |
| سنا ہے کہ وہ ہی نظر باندھتے ہیں |
| بہت انکے باندھے کمر شاعروں نے |
| ہیں ناکام یکسر مگر باندھتے ہیں |
| کبھی چاند کہتے ہیں اس سیم تن کو |
| کبھی اک دہکتا شرر باندھتے ہیں |
| رہے گا نہ خالی کبھی دل کا کمرہ |
| زمیں پر غزل کی وہ گھر باندھتے ہیں |
| دعائیں نہ دیں کیوں پرندے سب انکو |
| وہ شعروں میں اپنے شجر باندھتے ہیں |
| یہاں پوجتے ہیں انہیں ڈھونگیوں کو |
| دلوں سے ہمارے جو ڈر باندھتے ہیں |
| گھٹن ہو رہی ہے یہاں کی فضا میں |
| کہیں اور کا اب سفر باندھتے ہیں |
| بہت ہو چکی اب نمائش اے بےحس |
| چلو اپنے زخمِ جگر باندھتے ہیں |
| ۔۔۔۔۔ بےحس کلیم |
معلومات