| درونِ ذات میں اتروں تو ڈر تو ہوتا ہے |
| کہ تیرگی کا سفر پر خطر تو ہوتا ہے |
| ۔ |
| سمے کی دھول سے مدھم ہوئے ہیں یاد کے نقش |
| پر ان کے رنگ کا پھر بھی اثر تو ہوتا ہے |
| ۔ |
| یونہی بدل نہیں جاتے ہیں موسم آنکھوں کے |
| یہ جان لو ! سببِ چشمِ تر تو ہوتا ہے |
| ۔ |
| کسی کے آگے کبھی ہاتھ کو نہ پھیلایا |
| کم و زیادہ سہی پر گزر تو ہوتا ہے |
| ۔ |
| حصولِ خواہشِ دل میں مدثر آخرِ کار |
| سکونِ دل بھی طلب کی نذر تو ہوتا ہے |
| ۔ |
| نہیں بنی ہے مدثر ! تو بات پھر سے کہو |
| دوبارہ کہنے سے بھی کچھ اثر تو ہوتا ہے |
معلومات