بتاؤں تمہیں میں کہاں ہیں محمد
جہاں پر خدا ہے وہاں ہیں محمد
خدا لا پتہ لا مکاں کا مکیں ہے
اُسی بے نشاں کا نشاں ہیں محمد
وہ باطن وہ ظاہر بہ یک وقت یوں ہے
خدا گر نِہَاں ہے عیاں ہیں محمد
ہے انساں خدا کا، خدا رازِ انساں
اِسی سِر کا سِرِّ نہاں ہیں محمد
بسالو اِنھیں دل میں رب کو بسا لو
کہ رب کا فقط آشیاں ہیں محمد
اگر وہ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا
ہر اِک شئی کی جاں بے گماں ہیں محمد
بجز غافلاں ہے دو عالم کے لب پر
ذکیؔ جانِ جاں جانِ جاں ہیں محمد

0