بحر گیلا نہ خشک بَر ہو گا
جب بھی دامن تمہارا تَر ہو گا
ہم نے اپنا ہی خوں معاف کیا
اس سے بڑھ کر بھی درگزر ہو گا؟
کوئی آخر تلک نہیں سمجھے
داؤ بس وہ ہی کارگر ہو گا
جس قدر رعب وہ جماتا تھا
ہم کو لگتا تھا معتبر ہو گا
طول دو گے جو دل لگی کو تم
پیار اتنا ہی مختصر ہو گا
وقت ہاتھوں سے تب نہ نکلے گا
فیصلہ وقت پر اگر ہو گا
پر سکوں گھر کوئی جو دیکھو تو
دیکھنا صحن میں شجر ہو گا
رب کی محبوب سے محبت تھی
ورنہ شق کاہے یہ قمر ہو گا
اپنے اعمال ہی اگر ضد ہوں
بات میں کیا کوئی اثر ہو گا
پوچھنا ماں کا دِل دُکھایا ہے؟
آدمی جب بھی در بدر ہو گا
جوش و جذبہ بڑھے گا اتنا ہی
راستہ جتنا پُر خطر ہو گا

0
10