یہ نہیں ہے پانی سوہا خون میرا جھیل ڈل میں
سرخ ہے دیکھو فلک کا زون میرا جھیل ڈل میں
ٹھنڈا ہوتا تھا کبھی یہ پانی پہلے تو دکھا تھا
پانی ہے اب بس یہ جیسے جون میرا جھیل ڈل میں
دیکھتا ہوں یہ ابھی حیرانی سے اس کو میں کب سے
خون ہے یہ تیرتا ہے خون میرا جھیل ڈل میں
یہ خبر ہے اب مجھے ظالم تو یاں تو مار دے گا
یاد رکھ یہ لہو ہو یا بھون میرا جھیل ڈل میں
ظلم احمد یہ بھی تو کم تو نہیں ہے یار میرے
اب نہیں ہے پانی بھی یہ خون میرا جھیل ڈل میں

16