| تاریکیوں میں گھر ہے اِس مستنیر کا |
| دل ہے چراغِ کشتہ غم کے اسیر کا |
| اعزاز پا رہا ہے مرنے کے بعد جو |
| بے دام بک گیا تھا فن اس حقیر کا |
| صحرا نورد گھر کو لوٹے بھی ہیں کبھی |
| کیوں دیکھتے ہو رستہ مجھ راہ گیر کا |
| جو خیر مانگتا ہے بے لوث آپ کی |
| کچھ احترام کیجیے ایسے فقیر کا |
| خواہش بہت ہے جس کو اظہارِ درد کی |
| لے درس عاشقوں سے دیوانِ میر کا |
معلومات