میرے صوفی مرا دل، آپ کا شیدائی ہے
جان و دل دے کے یہ دولت مرے ہاتھ آئی ہے
تپتے صحرا کا یہ سورج، مجھے جُھلسَاتا تھا
نامِ صوفی جو لیا، ابرِ کرم چھائی ہے
میرے صوفی، تجھے دیکھوں، میں تجھے ہی دیکھوں
چشمِ دل میں مرے اس واسطے بینائی ہے
عرش و کرسی کے ہر اک راز سے دل روشن کیا
میرے صوفی نے جو صورت ذرا دکھلائی ہے
مجھ سے کہتا ہے مرا نفس ذکؔی سن تو بھی
میرے صوفی کی عطا سے مری اچھائی ہے

0
2