| میرے صوفی مرا دل، آپ کا شیدائی ہے |
| جان و دل دے کے یہ دولت مرے ہاتھ آئی ہے |
| تپتے صحرا کا یہ سورج، مجھے جُھلسَاتا تھا |
| نامِ صوفی جو لیا، ابرِ کرم چھائی ہے |
| میرے صوفی، تجھے دیکھوں، میں تجھے ہی دیکھوں |
| چشمِ دل میں مرے اس واسطے بینائی ہے |
| عرش و کرسی کے ہر اک راز سے دل روشن کیا |
| میرے صوفی نے جو صورت ذرا دکھلائی ہے |
| مجھ سے کہتا ہے مرا نفس ذکؔی سن تو بھی |
| میرے صوفی کی عطا سے مری اچھائی ہے |
معلومات