ہم پر شعور باب اتارے گئے تو ہیں
گیسو غزل کے تھوڑے سنوارے گئے تو ہیں
کھینچا ہے کہکشاؤں نے اپنی طرف ہمیں
لگتے ہیں ہاتھ کتنے ستارے، گئے تو ہیں
جاری تھی جنگ ضد کی خداؤں کے درمیاں
بے وجہ لوگ بیچ میں مارے گئے تو ہیں
سنتے ہیں آج شاہ پہ رغبت عطا کی ہے
ہوتا ہے کیا نصیب، پکارے گئے تو ہیں
دریا سے کتنی پائی ہے دریا دلی کی خُو
کہنے کو بار بار کنارے گئے تو ہیں
لاتا ہے کون دیکھیں ابھی گوہرِ مراد
اک دوڑ ہے کہ سارے کے سارے گئے تو ہیں
دیکھیں رشیدؔ ساتھ نبھاتا ہے کتنا ضبط؟
اپنے خلاف لوگ ابھارے گئے تو ہیں
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۲۴، ستمبر، ۲۰۲۶

0
3