| ہر حسینہ سے محبت کی جسارت کرتا |
| گر پریشاں نہ مجھے خوف مرمت کرتا |
| حسن کا تاج محل وہ جو عنایت کرتے |
| سنگ مرمر پہ پھسلنے کی شرارت کرتا |
| بخشے ہوتے جو مجھے تو نے خدایا ڈالر |
| میں ترے بندوں پہ دن رات سخاوت کرتا |
| کیمرہ سے نہ چھپے پیروں کے جھوٹے کرتب |
| پیر سچا کوئی ہوتا تو کرامت کرتا |
| پہلی والی کے ہی بیلن کے نشاں باقی ہیں |
| کس طرح دوسری شادی کی حماقت کرتا |
| کرنی آئی نہ حکومت اسے برسوں میں سحاب |
| اس سے بہتر تھا غریبوں کی حجامت کرتا |
معلومات