خدا سے حزیں کو خزانہ ملا
زباں کو نبی کا ترانہ ملا
مدینے میں ہم نے جو دیکھی بہار
لگا خلد میں ہے ٹھکانہ ملا
ملا سبز گنبد سے دل کو سرور
بڑا خوب منظر زمانہ ملا
منور دروں بھی مدینے میں ہے
زہے بخششوں کا بہانہ ملا
کشاکش تھکن جیسے معدوم ہے
مدینے میں منظر سہانا ملا
تھی دشوار لگتی وہ ارضِ بہشت
شکر ہے نبی کا گھرانہ ملا
مبارک ہیں محمود زائر سبہی
کہ شہرِ نبی آب و دانہ ملا

0
1
3
خلاصہ:
اس کلام میں شاعر بتاتا ہے کہ اسے اللہ کی طرف سے سب سے بڑی نعمت حضور نبی کریم ﷺ کی نسبت اور مدینہ کی حاضری کی صورت میں ملی۔ مدینہ پہنچ کر دل کو سکون، روح کو سرور اور زندگی کو ایک نئی روشنی حاصل ہوتی ہے۔ سبز گنبد کی زیارت دل کو منور کر دیتی ہے اور دنیا کی تھکن، کشمکش اور پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ شاعر کے نزدیک مدینہ کی فضا ہی جنت کا احساس دلاتی ہے، بلکہ جنت بھی اُس وقت مکمل محسوس ہوتی ہے جب نبی ﷺ کی نسبت حاصل ہو۔ آخر میں وہ تمام زائرین کو مبارکباد دیتا ہے کہ انہیں شہرِ نبی ﷺ کی برکتیں نصیب ہوئیں، جو اصل کامیابی اور روحانی رزق ہے۔

0