خواب اشکوں کی روانی میں مر جاتے ہیں
ہم جیسے لا مکانی میں مر جاتے ہیں
جن کے لہو میں شامل ہو غربت کا دکھ
ان کے بچے جوانی میں مر جاتے ہیں
ہم پر اتنی مہرباں ہے قسمت کہ اگر
آگ سے نکلیں تو پانی میں مر جاتے ہیں
کیسے سمجھے کوئی ہجرت کے ماروں کا غم
جو سدا نقل مکانی میں مر جاتے ہیں
ذکر اتنا ہے ہمارا کتابِ زندگی میں
ہم تو آدھی کہانی میں مر جاتے ہیں
اندازِ بیاں شوخ نہ ہو تو واعظ کے
لفظ اپنے ہی معانی میں مر جاتے ہیں

0
4