قرآں کفایت اللہ نے اب شروع کیا ہے
ہے شکر رب کا دل نے اس سے رجوع کیا ہے
وہ پیر کا بھی دن تو کتنا حسین دن ہے
رب کے کلام کی دل نے جستجو کیا ہے
اللہْ حافظِ قرآں تو بنا دے اس کو
تیرے کلام سے خود کو سرخرو کیا ہے
ماں باپ کو بھی محشر میں تاج پہنا دینا
اس نورِ پاک سے گھر کو با وضو کیا ہے
اور دل کو اس کے کر دے، یارب تو ایسا روشن
ہر حرف یاد سینے میں ہو بہو کیا ہے
اس کی زباں پہ جاری، ہو ذکر تیرا ہر دم
ہر سانس نے فقط تیری گفتگو کیا ہے
اس کی ہراک تمنا قرآں سے جوڑ دے تو
دل سے یہ عظمت اللہ نے آرزو کیا ہے

0
5