فقیرانہ سا آج لگتا ہے دل
میاں یہ محبت کا بھوکا ہے دل
نہ دنیا کی چاہت نہ دولت مگر
اسی کے ہی در کا یہ منگتا ہے دل
کبھی درد دیتا، کبھی چین بھی
محبت میں دیکھا مسیحا ہے دل
نہ منزل کی ہے تو نہ رہ کی خبر
بجا عشق کی دُھن میں مچلا ہے دل
یہ دنیا تو مطلب کا ہے سلسلہ
وفا کے لیے پھر بھی بچہ ہے دل
کسی سے گلہ ہے نہ شکوہ مجھے
فقط حالِ دل اپنا کہتا ہے دل
جو مل جائے اک بار محفل اگر
تو پھر خود ہی دنیا سے اُکتا ہے دل
جہاں ذکرِ مولا کی خوشبو ملے
وہیں بیٹھنے کو مچلتا ہے دل
نہ منصب کی چاہت نہ شہرت کی حب
فقط رب کی رحمت سے بستا ہے دل
میں کیا جانوں دنیا رنگوں کے ثمر
محبت میں خود کو لٹاتا ہے دل
جہاں عقل ہاری ہے جیتا ہے یہ
عجب رازِ الفت سمجھتا ہے دل
یہ ارشدؔ کو عشقِ حقیقی کی زر
ملے تو مقدر پہ ہنستا ہے دل
مرزاخان ارشدؔ شمس آبادی

0
3