منظر حسین و پُر مزہ ہوتا بہار سے
چھائے سکون گردِشِ لیل و نہار سے
نرگس، گلاب، یاسمیں سے مہکے کُل چمن
گل بن کے پھوٹتا ہے لہو شاخسار سے
پیاسی زمین ہوتی ہے سیراب مینہ سے
سوندھی مہک بھی پھیلتی ہلکی پھوار سے
آمد کی پھیلی تھی جو خبر جانِ من کی تب
بے چین ہو رہے تھے سبھی انتظار سے
صحرا کے راہی خطروں سے بھی ہوشیار ہوں
طوفان ڈھاتا غیض و غضب ہے غبار سے
ماتم غموں کا کرتے ہیں وہ جان لے یہاں
گل مسکرائے کہتے، نہیں ڈرتے خار سے
کھاتے ہیں ٹھوکریں انہیں ناصؔر نہ خوف ہو
سیکھے سنبھلنا خوب ہی ہر کوئی ہار سے

0
11