(غالبؔ کی زمین پر ادنی سی کوشش) |
آدمی بننے کو؛عرصہ چاہئے |
اور بگڑنے کو تو لمحہ چاہئے |
روٹھ جانا اس کی فطرت ہی میں ہے |
بس اسے کوئی بہانہ چاہئے |
جذبۂِ عشق و وفا ہے تجھ میں خوب |
مجھ کو تیرے جیسا بیٹا چاہئے |
میری خاطر جو لٹادے اپنی جان |
مجھ کو اک ایسا دوانہ چاہئے |
ان کا ایسے دیکھنا میری طرف |
جیسے ان کو لب پہ بوسہ چاہئے |
دشمنوں کے بیچ رہ کر کچھ گھڑی |
دوست کو یوں آزمانا چاہئے |
اپنے ہی جب دشمنی کرنے لگیں |
اس سے اچھا مر ہی جانا چاہئے |
ہم نے اپنی سب سنادی ہیں غزل |
آپ کو بھی کچھ سنانا چاہئے |
دوست ،دو پل کا ، نہیں ہر گز نہیں |
دوست یونسؔ عمر بھر کا چاہئے |
معلومات