(غالبؔ کی زمین پر ادنی سی کوشش)
آدمی بننے کو؛عرصہ چاہئے
اور بگڑنے کو تو لمحہ چاہئے
روٹھ جانا اس کی فطرت ہی میں ہے
بس اسے کوئی بہانہ چاہئے
جذبۂِ عشق و وفا ہے تجھ میں خوب
مجھ کو تیرے جیسا بیٹا چاہئے
میری خاطر جو لٹادے اپنی جان
مجھ کو اک ایسا دوانہ چاہئے
ان کا ایسے دیکھنا میری طرف
جیسے ان کو لب پہ بوسہ چاہئے
دشمنوں کے بیچ رہ کر کچھ گھڑی
دوست کو یوں آزمانا چاہئے
اپنے ہی جب دشمنی کرنے لگیں
اس سے اچھا مر ہی جانا چاہئے
ہم نے اپنی سب سنادی ہیں غزل
آپ کو بھی کچھ سنانا چاہئے
دوست ،دو پل کا ، نہیں ہر گز نہیں
دوست یونسؔ عمر بھر کا چاہئے

0
1
43
آدمی بننے کو؛عرصہ چاہئے
اور بگڑنے کو بھلا کیا چاہئے
== دوسرے مصرعے میں بھلا کا محل نہیں ہے - ا س سے تو بہتر ہے اسے لمحہ چاہیے کے وزن میں لے آئیں

روٹھ جانا اس کی فطرت ہی میں ہے
بس اسے کوئی بہانہ چاہئے
= اچھا ہے

جذبۂِ عشق و وفا ہے تجھ میں خوب
مجھ کو تیرے جیسا بیٹا چاہئے
== یہ فضول شعر ہے

میری خاطر جو لٹادے اپنی جان
مجھ کو اک ایسا دوانہ چاہئے
= چلے گا

ان کا ایسے دیکھنا میری طرف
جیسے ان کو لب پہ بوسہ چاہئے
== بے ہودہ بات ہے - اسے ڈھکے چھپے لفظوں میں بیان کریں

دشمنوں کے بیچ رہ کر کچھ گھڑی
دوست کو یوں آزمانا چاہئے
== دوست کے بجائے دوستوں کو آزمانا چاہیئے کر دیں - یوں کا یہاں مقام نہیں ہے

اپنے ہی جب دشمنی کرنے لگیں
اس سے اچھا مر ہی جانا چاہئے

ہم نے اپنی سب سنادی ہیں غزل
آپ کو بھی کچھ سنانا چاہئے
== سب کہا ہے تو غزل جمع ہوا - ہم نے اپنی سب غزلیں سنا دیں نہ کہ سنا دی

دو گھڑی کا دوست،بالکل بھی نہیں
دوست یونسؔ عمر بھر کا چاہئے
== بالکل بھی نہیں کا یہ محل نہیں ہے

0