کسی کے کام جو آ جائے، زندگی وہ ہے
دلوں میں گھر جو بنا جائے، زندگی وہ ہے
جو اپنے درد کو چپ چاپ مسکرا کے سہے
جو دوسروں کو ہنسا جائے، زندگی وہ ہے
چراغ خود ہی اندھیروں سے لڑ نہیں سکتے
ہوا بھی ساتھ نبھا جائے، زندگی وہ ہے
نہ تخت کی ہو تمنّا ، نہ تاج کی خواہش
جھکے سروں کو اٹھا جائے، زندگی وہ ہے
ہر اک کی پیاس کا پانی سے واسطہ ٹھہرا
کسی کی پیاس بجھا جائے، زندگی وہ ہے
تمام عمر رہے گل رؤوں کی ہم راہی
جو خوشبوؤں میں نہا جائے، زندگی وہ ہے
حسابِ نفع و زیاں سے بلند تر ہو دل
جو صد خوشی سے لُٹا جائے، زندگی وہ ہے
دعائیں بن کے اثر لفظ وہ کرے طارِقؔ
کہ ٹوٹے دل کو بچا جائے، زندگی وہ ہے

0
4