| خواب کی بستی میں اپنا گھر بنانا تھا ہمیں |
| خود ہی اپنی آگ میں جل کر دکھانا تھا ہمیں |
| رہ گئے پیاسے لبِ دریا، یہ کس کا دوش ہے؟ |
| اپنے ہاتھوں سے ہی تو ساغر اٹھانا تھا ہمیں |
| تیغ کی صورت چمکتی تھی ہماری ہر دعا |
| سوزِ دل کو حرفِ شیریں میں چھپانا تھا ہمیں |
| پتھروں سے مانگتے پھرتے تھے ہم مہر و وفا |
| آئینہ خود اپنے سینے میں سجانا تھا ہمیں |
| بے رخی سے وہ گزرتا ہی رہا مقتل کے پاس |
| حلقِ جاں تو نوکِ خنجر پر ٹکانا تھا ہمیں |
| داستاں اپنی تھی بس اک شوخیِ تحریر تک |
| اس سے آگے بھی تو عادل اب فسانہ تھا ہمیں |
معلومات