تَمنّا خُود کو کھونے کی بَسا أوقات ہوتی ہے
مِری ہستی اگر گُم ہو تو عرشِ ذات ہوتی ہے
تجلّی اُس کے جلووں کی بَراہِ راست ہوتی ہے
کبھی بجلی، کبھی شبنم، کبھی مِشکات ہوتی ہے
میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو آتا ہے نِگاہوں میں
میں جب خاموش ہوتا ہوں تو اُس سے بات ہوتی ہے
نِکالا ہے اِسی کارن مَکانِ دل سے دُنیا کو
جہاں کُچھ بھی نہیں ہوتا وہاں وہ ذات ہوتی ہے
تِرا عشقِ حقیقی جب مُجھے کرتا ہے اَنگارا
تَبھی جا کر مِری ہستی تِری مِرْآت ہوتی ہے
نہ ہوں عاقِل نہ دیوانہ، میں عاشِق ہوں میں رِندانہ
طلَب جامِ مُحبت کی مُجھے دن رات ہوتی ہے
مِرے آنسو ہیں وہ پانی کہ جن پر عرش ہوتا تھا
یہی وہ آب ہے جس سے نئی سوغات ہوتی ہے
اُنہی آنکھوں کو ملتا ہے نظارہ حُسنِ جاناں کا
کہ جن آنکھوں سے اَشکوں کی سَدا برسات ہوتی ہے
نَفَس پر تیغِ "لَا" گر ہو تَبھی مقصود ملتا ہے
نَفی کی جب نَفی ہو تو یہی اَثبات ہوتی ہے

0
20