دور ہو جائے رنج و غم کیسے
حزن سے پار نکلیں ہم کیسے
یاد جب آ گئی ہے ان کی تو
"آنکھ پھر ہو گئی ہے نم کیسے"
شکر رب کا ہو لازمی پورا
کر رہیں ہیں جبین خم کیسے
عزم سے ہو نصیب اونچائی
چاند تک پہنچے جو قدم کیسے
ساتھ سب کا یہ نعرہ رہ کر بھی
پِچھڑے ہوؤں پہ یہ ستم کیسے
ظلم کی انتہا بھی چُھو کر اب
وائے خاموش ہیں قلم کیسے
سوچتے ہونگے وہ یہی ناصؔر
حق کی آواز ہوگی کم کیسے

0
31