ہاتھ میں وہ کمان رکھتے ہیں
ہم ہتھیلی پہ جان رکھتے ہیں
دھوپ نفرت کی سخت ہے، سو ہم
پیار کا سائبان رکھتے ہیں
جس کے ہر لفظ میں ہے ایک جہاں
ہم وہ اردو زبان رکھتے ہیں
وہ شب و روز جو بھلے گزرے
دل پہ گہرا نشان رکھتے ہیں
عمر اس کام میں کٹی سو ہم
عشق کی داستان رکھتے ہیں
ہم سے لڑ مت کہ تیرے بارے میں
ہم تو اچھا گمان رکھتے ہیں
عادل ریاض کینیڈین

0
5