| دل لے کے کھڑا ہوں سرِ بازارِ محبت |
| کیا دل کو خریدیں گے خریدارِ محبت |
| دل ہار گیا اور سکوں بھی ہوا غارت |
| اس طرح سے ہوں برسرِ پیکارِ محبت |
| وہ سامنے آ جائے تو سینے سے لگا لوں |
| آغوش میں لیکر کروں ، اقرارِ محبت |
| چہرے پہ چمک آئے ، سکوں بھی ہو میسر |
| ہو جائے مرے دل کو جو دیدارِ محبت |
| اب چھوڑ بھی دیں شکوے شکایات کا انبار |
| اک دوسرے سے کیجیے اظہارِ محبت |
| آرام ملے مجھ کو جو ہو ان کی زیارت |
| کہتا ہوں جنہیں پیار سے میں یارِ محبت |
معلومات