| تری جانب اٹھیں تو لوٹ آنا بھول جاتی ہیں |
| یہ نظریں اپنا گھر اپنا ٹھکانہ بھول جاتی ہیں |
| تجھی سے پیار کرتی ہیں تجھی کو پھر نہ جانے کیوں |
| جواں دل کے نہاں جذبے بتانا بھول جاتی ہیں |
| یہ خود تو جاگتی رہتی ہیں شب بھر یاد میں تیری |
| مگر وقتِ سحر مجھ کو جگانا بھول جاتی ہیں |
| بہت بے زار رہتا ہوں میں ان کے اس رویے پر |
| یہ رونے پر اگرآئیں ہنسانا بھول جاتی ہیں |
| وہ کیسی مائیں ہیں عاصم جو اپنے دل کے ٹکڑوں کو |
| زمیں کی گود میں دے کر اٹھانا بھول جاتی ہیں |
معلومات