وہ پاس تھا کہ مرا جب تلک شباب رہا
بتاؤں کیا وہ مجھے کتنا دستیاب رہا
وہ ایک شخص جو ہر درد میں حجاب رہا
مرے لیے تو ہمیشہ وہ انتخاب رہا
وہ دور جا کے بھی دل سے جدا وہ ہو نہ سکا
مرے خیال میں ہر دم وہ بے حساب رہا
کبھی جو وقت نے ہم کو قریب میل دیا
وہ لمحہ لمحہ مرے واسطے گلاب رہا
میں اس کے بعد بھی دنیا میں مسکراتا رہا
مگر یہ دل تو مسلسل ہی بے قرار رہا
وہ جس کے ساتھ گزاری تھی زندگی میں وہ دن
اسی کے بعد ہر اک موسم اضطراب رہا
وہ لوٹ آتا تو شاید بدل ہی جاتے یہ دم
یہ دل اسی کے لیے عمر بھر خراب رہا
مرزاخان ارشد شمس آبادی

0
4