۔۔۔۔ غزل ۔۔۔۔
اک شبنمی سا شخص عجب گھات کر گیا
دل میں اُتر کے زخمی مری ذات کر گیا
برگِ خزاں نصیب ، گلابِ خیال شُد
یعنی بہارِ عشق کو آفات کر گیا
گُل ہاے رنگ و نور تھے راہوں میں منتظر
آیا نسیم بن کے ، مگر ہاتھ کر گیا
چشمِ ترم شکستہ نگاهی بہ جا گذار
آہِ فسردہ در دلِ حالات کر گیا
لب ہائے خامشی کو سخن سونپ کر گیا
دریا کو تشنہ رکھ کے کرامات کر گیا
راہوں میں جس کی میں نے اُجالے بکھیرے وہ
شائم حسیں سحر کو مری رات کر گیا
شائم

34