گردش میں کائنات ہے یا برقرار ہے
میرا خیال اپنی جگہ برقرار ہے
تصویر سے عیاں ہے تعلق کی نوعیت
دونوں کے درمیان خلا برقرار ہے
تب تک یقیں رہے گا مرا معجزات پر
جب تک یقیں رہے گا خدا برقرار ہے
آنکھیں گناہگار بری ہو گئیں پہ دل؟
اس بے گناہ کی تو سزا برقرار ہے
میں تجھ کو تیرے بعد بھی رکھے ہوئے ہوں یاد
ٹوٹی گھرونچی پر بھی گھڑا برقرار ہے
خوشیاں چرا کے لے گئی مصروف زندگی
لیکن سخن وری کی فضا برقرار ہے
دونوں کٹیں گے رسمی تکلف کی تیغ سے
تا آنکہ فرقِ ما و شما برقرار ہے
رنگ اڑ گیا دلہن کا ولیمے کے اگلے دن
ہاتھوں پہ جب کہ رنگ حنا برقرار ہے
باقی رہے گی بحثِ من و تو قمر ؔ مدام
جیسے خلائے ارض و سما برقرار ہے
قمرآسیؔ

1