| اشک آنکھوں کے سنبھالے میں نہیں آئیں گے |
| یہ شرارے ہیں پیالے میں نہیں آئیں گے |
| دل کی وسعت کا تقاضا ہے سمندر جیسا |
| ہم ندی کے تو کنارے میں نہیں آئیں گے |
| ہم فقیروں کی طبیعت میں خودی اتنی ہے |
| ہم ترے رزق کے کاسے میں نہیں آئیں گے |
| زندگی اپنی شرائط پہ گزاری ہم نے |
| ہم زمانے کے تو سانچے میں نہیں آئیں گے |
| بات جب بھی ہو تو بے خوف و کھلی کہتے ہیں |
| ہم منافق کے لبادے میں نہیں آئیں گے |
| راہِ الفت میں اگر پاؤں سلامت بھی رہے |
| ہم وفاؤں کے خسارے میں نہیں آئیں گے |
| ساتھ دینا ہے تو دل سے مِرا دیوانہ بنو |
| ہم کسی عذر کے جالے میں نہیں آئیں گے |
| ہم نے خودداری کے رُتبے کو سنبھالا، عادلؔ |
| ہم تو اب تیرے دکھاوے میں نہیں آئیں گے |
معلومات