آندھی میں بھی نہ بجھ سکا قہار کا چراغ
جلتا رہا ہواؤں میں جبار کا چراغ
روشن کیا خدا نے جسے اپنے نور سے
سرکار ہیں خدا کے وہ انوار کا چراغ
روشن ہوئی یہ ساری کی ساری ہی کائنات
دنیا نہ پائی آپ کے معیار کا چراغ
معراج میں دکھا کے وہ اسرار آپ کو
رب نے بنایا آپ کو اسرار کا چراغ
عصیاں مٹا رہی ہیں برستی ہیں رحمتیں
وہ بن کے آئے جیسے کہ غفار کا چراغ
جنت کا راستہ وہ دکھائے ہیں اعتباؔر
سرکار لے کے آے ہیں کردار کا چراغ

12