صرف صورت نہ ہو میزان، ذرا دیکھ تو لو
کون اندر سے ہے ویران، ذرا دیکھ تو لو
شہر کہتا ہے ترقی نے بدل دی دنیا
پیچھے رہتا ہے جو انسان، ذرا دیکھ تو لو
گھر تو روشن ہیں، دریچوں میں اجالا بھی بہت
یہ اجالا بھی ہے بے جان، ذرا دیکھ تو لو
دوستی کا ہے بہت شور زمانے بھر میں
دوستی صرف نہ ہو عنوان، ذرا دیکھ تو لو
اپنے بارے میں یقیں سب کو بہت ہے لیکن
اپنا چہرہ بھی ہے انجان، ذرا دیکھ تو لو
نام و شہرت کے تعاقب میں ہیں سب لوگ یہاں
آخرش دل ہے پشیمان، ذرا دیکھ تو لو
سب کے ہاتھوں میں چراغوں کی طرح روشنی ہے
اپنا سایہ بھی ہے حیران، ذرا دیکھ تو لو

0
6